21 اپریل 2012 - 19:30

صہیونی ریاست کے ہاتھوں لبنان کےفضائی حدود کی خلاف ورزی کاسلسلہ جاری رہنےکی خبریں موصول ہورہی ہیں۔

ابنا: لبنان کےخلاف صہیونی ریاست کی جارحیت کاتسلسل اور لبنان کےبعض علاقوں پر قبضے کےخلاف عالمی ردعمل کاسلسلہ جاری ہے۔

اس تناظرمیں اقوام متحدہ کےجنرل سکریٹری بان کی مون نے ایک بارپھر لبنان کےمقبوضہ علاقوں سے صہیونی ریاست کےانخلا کامطالبہ کیا ہے۔

بان کی مون نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنی رپورٹ میں لبنان کےخلاف صہیونی ریاست کی باربار جارحیت کی مذمت کرتےہوئے اس حکومت کی فوج کولبنان کےشبعافارمز، غجرگاؤں اور کفرشوباسےانخلانیزلبنان پےفضائی حملوں کوروکنےکامطالبہ کیاہے۔

صہیونی ریاست کی جارحیتوں میں اضافہ اور لبنان میں اس کےغاصبانہ قبضے کاتسلسل مشرق وسطی کےعلاقےمیں اس کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی غماز ہے۔

صہیونی ریاست کےہاتھوں لبنان کےاقتداراعلی کی باربارخلاف ورزی ،لبنان کےبارےمیں اقوام متحدہ کی قرارداد نمبرچارسوپچیس اور سترہ سوایک کی مخالفت ہے ۔

صہیونی ریاست جوایک جعلی اورانسانیت دشمن حکومت ہے کسی بھی بین الاقوامی قانون کی پابند نہيں ہے وہ اپنی جنگ پسندانہ پالیسیوں اور ملکوں کےاقتداراعلی کی خلاف ورزی کرکے مختلف طریقوں سے عالمی ثبات واستحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

صہیونی ریاست کی کارکردگی نے پہلےسےزیادہ یہ بات اجاگرکردی ہے کہ اس حکومت کی بنیاد توسیع پسندی، جنگ افروزی اور غاصبانہ قبضے پراستوار ہے۔

صہیونی ریاست اپنےپرتشدد اقدامات کےذریعے علاقےمیں خوف و وحشت پھیلاکر اور اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں سے علاقائی ممالک اور عالمی برادری کو چپ کرانے پر مجبور کررہی ہے۔

لبنان کےخلاف صہیونی ریاست کی دھمکیوں اور جارحیتوں کاسلسلہ جاری رہنےسے یہ حقیقت آشکار ہوگئي ہے کہ لبنان ہمیشہ اپنےتوسیع پسندانہ اقدامات اور صہیونی ریاست کےغاصبانہ قبضے کےنشانے پرہے۔

اس میں کوئي شک نہيں ہے کہ صہیونی ریاست کےسامنے اقوام متحدہ کی پسپائی اور مغربی حکومتوں کی ہمہ گیر حمایت نے اسے اس کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کےسلسلےمیں مزید گستاخ اورجری بنا دیا ہے۔

ایسےعالم میں جب عالمی برادری اسرائیل کی توسیع پسندی کےسامنے اپنی پسپائی کاسلسلہ جاری رکھےہوئے ہے، صہیونی ریاست کی لفظی مذمت پرہی اکتفاء کرتی ہے؛ لبنان میں صرف صہیونیت دشمن اقدامات ہی ہیں جواسے اس کی جارحیتوں کامقابلہ کررہے ہيں۔

سن دوہزار میں جنوبی لبنان کےایک بڑے حصے سے صہیونی ریاست کوپسپائی پرمجبور کرنا اوردوہزارچھ میں لبنان کےخلاف تینتیس روزہ جنگ میں اسے اپنےمذموم عقائد کےحصول سےروکناگذشتہ برسوں میں لبنانی عوام کی استقامت کےثمرات رہے ہيں۔

سیاسی ماہرین کاخیال ہے کہ لبنان مین صہیونی ریاست کےخلاف استقامت جاری رکھنےکی وجہ سے اسرائیل ، لبنان پرکسی بڑے حملےکی ہمت نہيں کرپارہاہے۔....... /169